حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرسی/ موت اُس اٹل حقیقت کا نام ہے جس کا انکار تمام مذاہب و نظریات کے ماننے والوں میں کوئی نہیں کرتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ دنیا فانی اور امتحان گاہ ہے، اور ہر ذی روح کو ایک مقررہ و معیّن مدت کے بعد موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ موت کے بعد ذرّہ برابر اعمالِ خیر و شر کا حساب ہوگا اور اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جائے گی۔ اسی لیے عقل مند اور باشعور افراد وہی ہیں جو اس عارضی زندگی میں اپنی دائمی زندگی کی کامیابی کے لیے فکر اور تیاری کریں۔
ان حقائق کا اظہار امام بارگاہ سادات میں خطیبِ اہلِ بیتؑ الحاج سید قمر عباس قنبر نقوی سرسوی نے شاعر اہلبیت علیہم السلام حسن سرسوی کی والدہ خورشید فاطمہ بنت ملازم حسین زیدی کی مجلسِ سوئم میں کو خطاب کرتے ہوئےکیا ـ آپ نے سورۂ آلِ عمران کی آیت 185 کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہ عدلِ الٰہی کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ اشرفُ المخلوقات کو کسی گھٹیا اور فانی مقام پر دائمی طور پر رکھے۔ اگر دنیا ہمیشہ کے لیے ہوتی تو اللہ یہاں اُن معصوم ہستیوں کو رکھتا جن کے صدقے اور طفیل میں اس دنیا کو خلق فرمایا گیا۔ خطیبِ مجلس نے مزید فرمایا کہ انسان اس دنیا میں انتہائی قلیل مدت کے لیے آتا ہے، آتے وقت اذان و اقامت ہوتی ہے اور جاتے وقت نماز بس اس درمیانی عرصے میں آخرت کی دائمی زندگی کی تیاری کرنی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم عباداتِ مخصوصہ کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو بلند کریں اور شکم کے لیے صرف پاک و حلال غذا کا اہتمام کریں۔ کسی کے وسیع و لذیذ دسترخوان یا ظاہری شخصیات سے مرعوب نہ ہوں، کیونکہ ہر شخص کو اپنا الگ الگ حساب دینا ہے۔ مجلس کے اختتام پر شہادتِ حضرت فاطمہ زہرا بنت حضرت مرسل اعظم ص کے بعض دردناک مناظر بیان کیے گئے، جس پر حاضرینِ مجلس نے با آوازِ بلند گریہ و زاری کرتے ہوئے پُرسہ پیش کیا۔

مجلس میں سوز خوانی الحاج سید وقار مہدی زیدی و ہمنوا نے انجام دی، جبکہ ارشد سرسوی اور سلمان سرسوی نے پیش خوانی فرمائی ۔

اس موقع پر مولانا سید عابس مہدی زیدی، پرنسپل جامعہ مہدی، مولانا سید میثم عباس زیدی گنگیروی، امامِ مسجد سادات، مولانا محمد عباس زیدی، مولانا سید میثم عباس زیدی سرسوی،امامِ مسجد زہرا، مولانا شاہ فیروز وارثی، امام و خطیب، حضرت نگر گڑھی، مولانا سید غفران علی، چودہری سید حسن عارف، نیتا مصائب حسین نقوی، سید خورشید انور ارم سرسوی،ایڈوکیٹ قریش خاں، میاں اختر حسین، الحاج سلطان مہدی زیدی، چودہری ثامن سرسوی، ایڈوکیٹ غضنفر علی زیدی، سلیم حیدر، ماسٹر سید ظفر عباس، الحاج عرفان مہدی زیدی، سید نیر اقبال، حسین مہدی زیدی، حسن آصف نقوی، الحاج جعفر عباس نقوی، الحاج مراغب حسین زیدی، دروغہ منور علی زیدی، ڈاکٹر انوار حسین زیدی، ڈاکٹر سید صائم رضا، سید عرفان رضا سمیت تمام شبہائے زندگی کے کے ممتاز افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ شاعر اہلبیت علیہم السلام حسن مہدی، معصوم مہدی اور حسنین مہدی نے علماء، شعراء اور مہمانان و شرکاء کا شُکریہ ادا کیا ۔










آپ کا تبصرہ